15 فروری 2013 - 20:30

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ افضل گورو کی پھانسی بھارتی ریاستی و عدالتی دہشت گردی کی تازہ مثال ہے، امریکی سرپرستی میں کابل میں ہونیوالی علماء کانفرنس میں شرکت غداری ہو گی، ہمارا کوئی نمائندہ کابل علماء کانفرنس میں شریک نہیں ہو گا۔

ابنا: اسلام ٹائمزکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے کہا ہے کہ امریکی سرپرستی میں کابل میں ہونے والی علماء کانفرنس میں شرکت غداری ہو گی، سنی اتحاد کونسل کا کوئی نمائندہ کابل علماء کانفرنس میں شریک نہیں ہو گا، امریکہ عہد حاضر کا دجال بن چکا ہے، نظام کی تبدیلی کی گونج مدہم نہیں ہو گی بلکہ یہ آواز پاکستان کے ہر گھر سے بلند ہو گی، قوم راہزن بن جانے والے راہبروں سے نجات حاصل کرے، چور بن جانے والے چوکیداروں سے جان نہ چھڑائی گئی تو یہ ملک کو بیچ دیں گے۔مرکزی دفتر میں پارٹی راہنماؤں اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پچھلے ستائیس سالوں میں دوسو چوہتر ارب کے قرضے معاف کروانے والوں سے پائی پائی وصول کی جانی چاہیے، سیاست بذریعہ دولت اور دولت بذریعہ سیاست کے فارمولے نے ملک کھوکھلا کر دیا ہے، سوداگروں نے سیاست میں آ کر سیاست کو بھی تجارت بنا دیا ہے، افضل گورو کی پھانسی بھارتی ریاستی و عدالتی دہشت گردی کی تازہ مثال ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بھارت پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں پر ڈیم بنا کر اور دریاؤں کا رخ تبدیل کر کے پاکستان کے حصے کے پانی پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر حکومت پاکستان نے بھارتی آبی دہشت گردی کو روکنے کے لیے مؤثر پالیسی نہ بنائی تو پنجاب اور سندھ چولستان کا منظر پیش کریں گے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بھارتی آبی جارحیت کی وجہ سے پاکستانی زراعت کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت دریاؤں کا رخ تبدیل نہیں کر سکتا، دریائے چناب اور دریائے جہلم کا رخ تبدیل کرنے کی وجہ سے پاکستان کو پینتیس فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل ینگ ڈاکٹروں کے مطالبات کی تائید و حمایت کا اعلان کرتی ہے،اے این پی کی آل پارٹیز کانفرنس ملک میں قیام امن کے لیے مثبت پیش رفت ہے